News : اغوا شدہ بلوچ راہنماؤں کی لاشیں برآمد
on 2009/4/9 0:43:57 (654 reads)

Open in new window

بلوچ قوم پرست راہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بگٹی اور لالہ منیر کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف حصوں میں مظاہرے اور احتجاج کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے ان راہنماؤں کی ہلاکت کے واقع کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔




کوئٹہ میں جمعرات کو سریاب روڈ پر اقوام متحدہ سے وابستہ غیر سرکاری تنظیم اور ایک پولیس گاڑی سمیت پانچ گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ جبکہ مختلف مقامات پر بینکوں اور عمارتوں پر پتھراو اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ کے قریب ہی روک لیا گیا۔

اسی طرح خضدار تربت گوادر اور دیگر علاقوں میں شٹر ڈااؤن ہڑتال ہے۔ خضدار میں گاڑیوں اور عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی گی ہے جبکہ نوشکی مشکے اور دیگر علاقوں سے بھی تشدد کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

غلام محمد بلوچ اور شیر محمد بگٹی کی نماز جنازہ تربت کے قریب مند شہر میں جمعرات کو ادا کی گی۔ مکران بار ایسوسی ایشن نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

بلوچ راہنما غلام محمد بلوچ شیر محمد بگٹی اور لالہ منیر کی مسخ شدہ لاشیں رات گئے تربت کے قریب سے ملی ہیں۔ ان تینوں رہنماؤں کو جمعہ کے روز کچکول علی ایڈووکیٹ کے دفتر سے نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے تھے۔

بلوچستان کے شہر تربت کے مضافات سے تین بلوچ راہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بگٹی اور لالہ منیر کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔

تربت کے ضلعی پولیس افسر ایاز بلوچ نے بتایا ہے کہ تربت پسنی روڈ سے کل رات تین لاشیں ملی تھیں جو مسخ ہو چکی تھیں۔ ان لاشوں کو ہسپتال لایا گیا جہاں ان کی شناخت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ قوم دوست پارٹی کے رکن غلام محمد بلوچ، بلوچ ریپبلکن پارٹی کے راہنما شیر محمد بگٹی اور بی این ایم کے راہنما لالہ منیر کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تینوں راہنماوں کی لاشیں پنجگور اور مند روانہ کر دی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعہ کے بعد شدید عوامی رد عمل کا اندیشہ ہے اور اس کے لیے پولیس کو چوکس کر دیا گیا ہے ۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے لاشوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان تینوں افراد کو اٹھانے کے فوراً بعد فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا کیونکہ لاشیں کافی مسخ ہو چکی تھیں۔ ان لوگوں کے مطابق کسی چرواہے نے لاشیں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔

تینوں راہنما عدالت میں پیش ہونے کے بعد کچکول علی ایڈووکیٹ کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ کچکول علی ایڈووکیٹ اور دیگر بلوچ قوم پرست راہنماؤں نے کہا تھا کہ انھیں خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے۔ لیکن اس بارے میں ضلعی پولیس افسر نے کہا ہے کہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ کون لوگ انھیں اٹھا کر لے گئے تھے اور پھر کن لوگوں نے انھیں ہلاک کیا ہے۔

غلام محمد بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے اغوا کے خلاف بلوچ نیشنل موومنٹ میں شامل تنظیموں اور جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور تربت میں روڈ بلاک کر دی تھی۔ یاد رہے غلام محمد بلوچ کو دو سال پہلے بھی اٹھایا گیا تھا اور کچھ عرصہ بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ غلام محمد بلوچ پاکستان حکومت پر سخت تنقید کیا کرتے تھے۔

Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Other articles
2010/7/26 19:41:07 - Two more Baloch missing persons found dead in Quetta and BNM activist killed in Awaran
2010/7/26 19:35:56 - Protest marked against the un recovery of Baloch missing persons
2010/7/24 19:54:57 - Another member of BNM Gwadar is abducted by secret agencies
2010/7/24 19:52:50 - State secret agencies are involved in killing of Najeeb Baloch,We will take revenge:BLA
2010/7/24 19:50:16 - Najeeb Baloch is martyred by torture:BNM
2010/7/23 17:57:46 - We even welcome the civil war for Baloch national independence:BLF
2010/7/23 17:55:08 - Forces under attacked in Balochistan,three killed:BRA
2010/7/20 20:42:31 - ''An appeal from a sad mother'' By Hafeez Hasan Abadi
2010/7/20 20:31:46 - FC medical camps are spreading dangerous diseases in Balochistan:BSO AZAD
2010/7/20 20:26:15 - Voice for missing persons rejected the report of Inquiry Comission



Bookmark this article at these sites

                   

Copyright © 2009. Balochwarna